کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 389
فَإِذَا زَادَتْ عَلٰی ثَلاَثِ مِائَۃٍ، فَفِی کُلِّ مِائَۃٍ شَاۃٌ)) [1] ’’اور بکریوں کی زکوٰۃ کے متعلق حکم یہ ہے کہ جنگل میں چرنے والی بکریاں جب چالیس ہو جائیں تو ایک سو بیس تک ایک بکری دینا ہو گی، ایک سو اکیس سے دوسو تک دو بکریاں اور دوسو ایک سے تین سو تک تین بکریاں ضروری ہیں اور اگر بکریاں تین سو سے زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری دینا ہو گی۔‘‘ نوٹ: … چھترا اور چھتری ، مینڈھا اور مینڈھی کی زکوۃ وہی ہے جو بکرااور بکری کی ہے۔ 4…خزانہ یا دفینہ کی زکوٰۃ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَفِی الرِّکَازِ الْخُمُسُ)) [2] ’’اور زمین میں مدفون خزانے میں پانچواں حصہ ہے۔‘‘ یعنی اگر کسی کو زمین میں دفن خزانہ ملتا ہے تو اس میں سے پانچواں حصہ بطورِ زکوٰۃ دینا لازم ہے۔ نوٹ (1):… شہد کی زکوٰۃ کے بارے میں سیدنا ا بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَفِی الْعَسَلِ فِی کُلِّ عَشْرَۃِ أَزُقٍّ زِقٌّ)) [3] ’’اور شہد کے ہر دس مشکیزوں میں ایک مشکیزہ زکوٰۃ ہے۔‘‘ نوٹ (2):… شریعت اسلامیہ نے کچھ چیزوں سے زکوٰۃ کا حکم ساقط کیا ہے جو کہ یہ ہیں: 1. گھوڑا اور غلام : سیدنا ا بوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح البخاری: ۱۴۵۴. [2] صحیح البخاری: ۱۴۹۹. [3] سنن الترمذی: ۶۲۹۔ صحیح الجامع: ۴۲۵۲.