کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 388
2…گائے کی زکوٰۃ: بیل اور گائے کی زکوۃ کے بارے میں سیدنا ا بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فِیْ ثَلَاثِیْنَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِیْعٌ أَوْتَبِیْعَۃٌ وَفِیْ أَرْبَعِیْنَ مِنَ الْبَقَرِ مُسِنَّۃٌ)) [1] ’’ہر تیس گایوں میں ایک سالہ بچھڑا یا بچھڑی (زکوٰۃ) ہے اور چالیس گایوں میں دو دانت کا (دوسالہ) جانور۔‘‘ اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ علیہ وسلم مَ أَمَرَنِیْ أَنْ آخُذَ مِنْ کُلِّ ثَلَاثِیْنَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِیْعًا أَوْ تَبِیْعَۃً، وَمِنْ کُلِّ أَرْبَعِیْنَ مُسِنَّۃً۔[2] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں ہر تیس گایوں میں ایک سالہ بچھڑا یا بچھڑی (بطورِ زکوٰۃ) وصول کروں اور ہر چالیس سے دو سال کا جانور۔‘‘ نوٹ: … کچھ علماء نے قیا س کرتے ہوئے بھینس اور بھینسے کی زکوٰۃ بھی بیل او ر گائے کی طرح بیان کی ہے۔ 3…بکریوں کی زکوٰۃ: سیدنا ا نس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَفِی صَدَقَۃِ الغَنَمِ فِی سَائِمَتِہَا إِذَا کَانَتْ أَرْبَعِینَ إِلٰی عِشْرِینَ وَمِائَۃٍ شَاۃٌ، فَإِذَا زَادَتْ عَلٰی عِشْرِینَ وَمِائَۃٍ إِلٰی مِائَتَیْنِ شَاتَانِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلٰی مِائَتَیْنِ إِلٰی ثَلاَثِ مِائَۃٍ، فَفِیہَا ثَلاَثُ شِیَاہٍ، [1] سنن الترمذی: ۶۲۲۔ سنن ابن ماجہ: ۱۸۰۴. [2] سنن أبی داود: ۱۵۷۶۔ سنن الترمذی: ۶۷۲۔ سنن النسائی: ۲۴۵.