کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 385
تمہارے پاس بیس دینار نہ (جمع) ہو جائیں، سو اگر تمہارے پاس بیس دینار ہو جائیں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو اس میں آدھا دینار (زکوٰۃ) پڑے گی۔‘‘ اورسیدنا ا بو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَۃٌ مِنَ الْإِبِلِ وَلَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَۃٌ)) [1] ’’پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں پڑتی اور پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکوٰۃ نہیں پڑتی۔‘‘ نوٹ: … واضح رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بطور کرنسی جو سکہ رائج تھا وہ دینار اور درہم تھا، دینارسونے کا،اور درہم چاندی کا ہوتا تھا،چنانچہ مذکورہ حدیث میں پانچ اوقیہ کاوزن 200درہم ہے کیونکہ ایک اوقیہ40درہم کاہوتا ہے اور پانچ اوقیے کا وزن 200 درہم ہوا۔ 3. زرعی پیدا وار: زرعی پیداوار مثلاً :گندم ، چاول ، جو ،چنا ، مکئی ، باجرہ ہر قسم کی دالیں ، روغنی بیج جیسے: مونگ پھلی، سرسوں وغیرہ، روغنی پھل جیسے : زیتون وغیرہ اور وہ پھل جنہیں خشک کر کے رکھا جاسکتاہو ، جیسے کھجور ، خشک انگور ، بادام ، پستہ اخروٹ وغیرہ، میں بھی زکوٰۃ فرض ہے، لیکن شرعی اصطلاح میں اسے زکوٰۃ کی بجائے عشر اور نصف عشر کہا جاتاہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ ﴾ [البقرۃ: ۲۶۷] ’’اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں سے خرچ کرو جو تم نے کمائی ہیں اور اس میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے (پیداوار) نکالی۔‘‘ [1] صحیح البخاری : ۱۴۴۷۔ صحیح مسلم: ۲۲۶۳.