کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 383
جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ﴾ [التوبۃ: ۳۴، ۳۵] ’’اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجیے۔ جس دن اس خزانے کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیاں، پہلُو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور ان سے کہا جائے گا:) یہ ہے جسے تم نے اپنے لیے خزانہ بنا کر رکھا ہوا تھا، سو اب اپنے خزانوں کا مزہ چکھو۔‘‘ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَانِعُ الزَّکٰوۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِی النَّارِ)) [1] ’’زکوٰۃ نہ دینے والا روزِقیامت (جہنم کی) آگ میں ہو گا۔‘‘ زکوٰۃ کے احکام ومسائل زکوٰۃ کی ادائیگی ایک سال بعد: اسی مال پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے جو نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لاَ زَکٰوۃَ فِیْ مَالٍ حَتّٰی یَحُوْلَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ)) [2] ’’مال میں تب تک زکوٰۃ نہیں پڑتی جب تک اس پر ایک سال نہ گزر جائے۔‘‘ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنِ اسْتَفَادَ مَالًا فَلَا زَکٰوۃَ عَلَیْہِ حَتّٰی یَحُوْلُ عَلَیْہِ الْحَوْلَ عِنْدَ رَبِّہٖ))[3] [1] صحیح الجامع: ۵۸۰۷۔ صحیح الترغیب والترہیب: ۷۶۲. [2] صحیح الجامع: ۷۴۹۷. [3] سنن الترمذی: ۶۳۱۔ سنن ابن ماجہ: ۱۷۹۲.