کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 381
3. زکوٰۃ کی عدم ادائیگی لعنت کا سبب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ((لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم آکِلَ الرِّبَا وَمُوْکِلَہٗ وَشَاہِدَہٗ وَکَاتِبَہٗ وَالْوَاشِمَۃَ وَالْمُسْتَوْشِمَۃَ وَمَانِعَ الصَّدَقَۃِ وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَہٗ۔))[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سُود کھانے والے، کھلانے والے، اس کی گواہی دینے والے، جسم گودنے والی عورت اور گدوانے والی پر، زکوٰۃ نہ دینے والے پر، حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے کیا جائے اس پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ 4. زکوٰۃ کی عدم ادائیگی ہلاکت کا باعث: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: ((مَنْ کَنَزَہَا فَلَمْ یُؤَدِّ زَکَاتَہَا فَوَیْلٌ لَہٗ۔))[2] ’’جس نے اس (مال) کو جمع کیے رکھا اور اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی، تو اس کے لیے ہلاکت و بربادی ہے۔‘‘ 5. روزِ قیامت گلے کے طوق کا باعث: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَللّٰهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴾ [آل عمران: ۱۸۰] ’’جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وہ اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لیے بہتر بالکل بھی نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے نہایت بدتر ہے، عنقریب [1] صحیح الترغیب والترہیب: ۷۵۸. [2] صحیح البخاری: ۱۴۰۴.