کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 377
﴿ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (3) أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ﴾ [الأنفال: ۳، ۴] ’’جو لوگ نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں، یہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔‘‘ 3. ایمانی لذت کاباعث: سیدنا عبداللہ بن معاویہ الغاضری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ثَلَاثُ مَنْ فَعَلَہُنَّ فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الْإِیْمَانِ: مَنْ عَبَدَ اللّٰہَ وَحْدَہٗ وَأَنَّہٗ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَعْطٰی زَکٰوۃَ مَالِہٖ طِیبَۃً بِہَا نَفْسُہٗ…))[1] ’’تین کام ایسے ہیں جس نے وہ کر لیے اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا: جس نے اکیلے اللہ کی عبادت کی اور (یہ عقیدہ رکھا کہ) بلاشبہ اس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں، اور دِلی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوٰۃ دی…‘‘ 4. خوف وغم سے حفاظت کا سبب: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴾ [البقرۃ: ۲۷۷] ’’یقینا جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے، نہ ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ ہی وہ غمزدہ ہوں گے۔‘‘ 5. رحمت الٰہی کا سبب: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: [1] صحیح الجامع: ۳۰۴۱۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ:۱۰۴۶.