کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 376
﴿ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ ﴾ [البقرۃ: ۴۳] ’’نماز قائم کرو اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرو، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔‘‘ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((بُنِیَ الْإِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ، وَإِقَامِ الصَّلٰوۃِ، وَإِیْتَائِ الزَّکٰوۃِ، وَحَجِّ الْبَیْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ)) [1] ’’اسلام کی بنیاد پانچ اعمال پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں اور بلاشبہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔‘‘ زکوٰۃ کے فوائد وثمرات 1. زکوٰۃ کی ادائیگی ایمان کی دلیل: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ ﴾ [التوبۃ: ۱۱] ’’پس اگر وہ توبہ کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو وہ تمہارے دِینی بھائی ہیں۔‘‘ 2. زکوٰۃ کی ادائیگی سچے مومن کی نشانی: فرمانِ باری تعالیٰ ہے: [1] صحیح البخاری: ۸ ۔ صحیح مسلم: ۱۱۳.