کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 371
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَا عَبْدَ اللّٰہِ لاَ تَکُنْ مِثْلَ فُلاَنٍ کَانَ یَقُومُ اللَّیْلَ، فَتَرَکَ قِیَامَ اللَّیْلِ)) [1] ’’اے عبداللہ! تم فلاں کی طرح نہ ہو جانا، وہ رات کو قیام کیا کرتا تھا، پھر اس نے قیام اللیل چھوڑ دیا۔‘‘ 12. غلبۂ نیند کی صورت میں پہلے نیند پوری کریں نیند کی وجہ سے آدمی کے حواس قائم نہیں رہتے اور اس کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ دِل و دماغ بھی حاضر نہیں رہتے، جس کی وجہ سے اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ اس کی زبان سے ایسے الفاظ ادا ہونے لگیں جو اس کے اپنے ہی خلاف ہوں، جبکہ وہ تو تلاوتِ قرآن کے ذریعے اپنے گناہ بخشوانا چاہتا ہو۔ لہٰذا ایسے شخص کو تلاوت ختم کر کے پہلے نیند پوری کر لینی چاہیے، تاکہ اس کے حواس درست ہو جائیں۔ اسی ضمن میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا نَعَسَ أَحَدُکُمْ وَہُوَ یُصَلِّی فَلْیَرْقُدْ، حَتّٰی یَذْہَبَ عَنْہُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا صَلّٰی وَہُوَ نَاعِسٌ، لاَ یَدْرِی لَعَلَّہٗ یَسْتَغْفِرُ فَیَسُبُّ نَفْسَہٗ))[2] ’’جب تم میں سے کسی کو اونگھ آئے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو اسے سو لینا چاہیے، حتیٰ کہ اس کی نیند پوری ہو جائے، کیونکہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھتے ہوئے اونگھنے لگے تو اسے معلوم نہیں رہتا کہ وہ مغفرت مانگ رہا ہے یا اپنے آپ کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔‘‘ [1] صحیح البخاری: ۱۱۵۲. [2] صحیح البخاری: ۲۱۲۔ صحیح مسلم: ۷۸۶.