کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 367
اس کے بعد وہ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ (اے میرے رب! مجھے بخش دے) کہے، تو اسے بخش دیا جاتا ہے۔ یا فرمایا: پھر وہ دُعا کرے تو اس کی دُعا کو قبول کیا جاتا ہے، نیز اگر وہ (قیام اللیل کا) عزم کرے اور اُٹھ کر وضو کرے اور نماز پڑھے تو اس کی نماز کو بھی شرفِ قبولیت بخشا جاتا ہے۔[1] 8.سب سے پہلے دو ہلکی سی رکعتیں پڑھیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم اِذَا قَامَ مِنَ اللَّیلِ افْتَتَحَ صَلَاتَہٗ بِرَکْعَتَینِ خَفِیفَتَینِ۔[2] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو (تہجد کے لیے) اُٹھتے تھے تو دو ہلکی سی رکعتوں سے شروع کرتے تھے۔‘‘ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِنَ اللَّیلِ فَلْیَفْتَتِحْ صَلَاتَہٗ بِرَکْعَتَینِ خَفِیفَتَینِ۔[3] ’’جب تم میں سے کوئی رات کو اُٹھے تو اس کو چاہیے کہ اپنی نماز دو ہلکی سی رکعتوں سے شروع کرے۔‘‘ 9. قیام اللیل مسنون طریقے سے کریں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ: مَا کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَزِیدُ فِی رَمَضَانَ وَلاَ فِی غَیْرِہٖ عَلٰی إِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً۔[4] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک اور اس کے علاوہ دیگر ایام میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔‘‘ [1] سنن أبی داود: ۵۰۶۰۔ سنن ابن ماجہ: ۳۸۷۸. [2] صحیح مسلم: ۷۶۷. [3] صحیح مسلم: ۷۶۸. [4] صحیح البخاری: ۱۱۴۷۔ صحیح مسلم: ۷۴۹.