کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 364
’’جو شخص (رات کو سونے کے لیے) اپنے بستر پر لیٹے اور وہ رات کو اُٹھ کر نماز پڑھنے کی نیت رکھتا ہو لیکن اس پر نیند ایسی غالب آئے کہ صبح کو ہی آنکھ کھلے، تو اس کے لیے اس کی نیت کے مطابق ثواب لکھ دیا جاتا ہے اور اس کی نیند اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر صدقہ ہو جاتی ہے۔‘‘ 2. سونے سے پہلے وضوء کریں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((طَہِّرُوا ہٰذِہِ الأَجْسَادَ طَہَّرَکُمُ اللّٰہُ، فَإِنَّہٗ لَیْسَ عَبْدٌ یَبِیْتُ طَاہِراً إِلاَّ بَاتَ مَعَہٗ مَلَکٌ فِی شِعَارِہٖ، لاَ یَنْقَلِبُ سَاعَۃً مِنَ اللَّیْلِ إِلاَّ قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِکَ فَإِنَّہٗ بَاتَ طَاہِراً)) [1] ’’تم (اپنے)ا ن جسموں کو پاک رکھاکرواللہ تعالیٰ تمہیں پاک فرما دے گا کیونکہ جوبھی بندہ پاکیزہ(یعنی باوضوء )حالت میں رات بسر کرتا ہے اس کے ساتھ ایک فرشتہ رات گزارتا ہے جو اس کے تحتانی لباس میں موجود رہتا ہے اور رات کی کسی بھی گھڑی میں جب بندہ کروٹ بدلتا ہے تو وہ (اس کے لیے یہ دُعا) فرماتا ہے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِکَ فَإِنَّہٗ بَاتَ طَاہِراً ’’اے اللہ! اپنے بندے کو بخش دے؛ کیونکہ اس نے پاکیزہ حالت میں رات بسرکی ہے۔‘‘ 3. وضوء کر کے اور اذکار پڑھ کر سوئیں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَبِیتُ عَلٰی ذِکْرٍ طَاہِرًا، فَیَتَعَارُّ مِنَ اللَّیْلِ فَیَسْأَلُ اللّٰہَ خَیْرًا مِنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ إِلَّا أَعْطَاہُ إِیَّاہُ)) [2] ’’جو بھی مسلمان دعا پڑھ کر (اور) پاکیزہ (یعنی باوضو) حالت میں رات بسر کرتا [1] المعجم الکبیر للطبرانی: ۱۳۶۲۰۔ صحیح الجامع للألبانی: ۳۹۳۶. [2] سنن أبی داود: ۵۰۳۲۔ صحیح الجامع: ۵۷۵۴.