کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 362
الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِسَلَامٍ)) [1] ’’اے لوگو!سلام کوپھیلاؤ، (ضرورت مندوں کو)کھاناکھلاؤ، رشتے داری کوملاؤ، رات کونمازپڑھوجب لوگ سورہے ہوں، (ان تمام اعمال کے صلے میں)تم جنت میں سلامتی سے داخل ہوجاؤ گے۔‘‘ 8… تہجد کی نماز کو قبولیت کا اعزاز سیدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی رات کو سوتے ہوئے آنکھ کھل جائے اور وہ یہ کلمات پڑھے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ ’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا و لاشریک ہے، اسی کے لیے بادشاہت اور اسی کے لائق تمام تر تعریفات ہیں اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔ اللہ بہت پاک ہے اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کو سزاوار ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، کسی برائی سے بچنے کی طاقت اور کسی بھلائی کے حصول کی قوت اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے۔‘‘ یہ کلمات پڑھنے کے بعد وہ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ (اے میرے رب! مجھے بخش دے) کہے، تو اسے بخش دیا جاتا ہے۔ یا فرمایا: پھر وہ دُعا کرے تو اس کی دُعا کو قبول کیا جاتا ہے، نیز اگر وہ (قیام اللیل کا) عزم کرے اور اُٹھ کر وضو کرے اور نماز پڑھے تو اس کی نماز کو بھی شرفِ قبولیت بخشا جاتا ہے۔[2] [1] سنن الترمذی: ۱۸۵۵ ۔ سنن ابن ماجہ: ۳۲۵۱. [2] سنن أبی داود: ۵۰۶۰۔ سنن أبن ماجہ: ۳۸۷۸.