کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 360
((لِمَنْ أَطَابَ الکَلَامَ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَدَامَ الصِّیَامَ، وَصَلّٰی بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ)) [1] ’’اس کے لیے جس نے اچھی بات کی، کھانا کھلایا، روزوں کی پابندی کی اور رات کے وقت نماز ادا کی جب لوگ سو رہے ہوں۔‘‘ 3… گناہوں کے کفارے کا ذریعہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((عَلَیْکُمْ بِقِیَامِ اللَّیْلِ فَإِنَّہٗ دَأبُ الصَّالِحِینَ قَبْلکُمْ، وَہُوَ قُرْبَۃٌ إِلٰی رَبِّکُمْ، وَمَکْفَرۃٌ لِلسَّیِّئاتِ وَمَنْہَاۃٌ لِلإثْمِ)) [2] ’’تہجد کی نماز کا التزام کیاکرو، یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کی خصلت ہے اور یہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کردینے والی، برائیوں کے اثرات مٹانے والی اور گناہ سے روکنے والی ہے۔‘‘ 4… عظیم غنیمت کے حصول کا باعث سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آیَاتٍ لَمْ یُکْتَبْ مِنَ الْغَافِلِیْنَ، وَمَنْ قَامَ بِمِئَۃِ آیَۃٍ کُتِبَ مِنَ الْقَانِتِیْنَ، وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آیَۃٍ کُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِیْنَ)) [3] ’’جو شخص دس آیات کے ساتھ قیام کرتاہے وہ غافلوں میں نہیں لکھاجاتا، جو شخص سو آیات کے ساتھ قیام کرتا ہے اس کا نام فرمانبرداروں میں لکھ دیاجاتاہے اور جو شخص ایک ہزار آیات کے ساتھ قیام کرتا ہے اسے بہت زیادہ اجروثواب اکٹھاکرنے والوں میں لکھ دیاجاتاہے۔‘‘ [1] سنن الترمذی: ۱۹۸۴۔ صحیح الجامع: ۲۱۱۹. [2] سنن الترمذی: ۳۵۴۹. [3] سنن أبی داود: ۱۳۹۸.