کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 356
’’سحری کا کھانا باعثِ برکت ہے، لہٰذا اسے مت چھوڑا کرو، خواہ تم میں سے کوئی پانی کا ایک گھونٹ ہی پی کر روزہ رکھے، کیونکہ سحری کھانے والوں پر اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں۔‘‘ (3) بیہودگی اور فضولیات سے اجتناب: ٭…سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُکُمْ یَوْمًا صَائِمًا، فَلَا یَرْفُثْ وَلَا یَجْہَلْ، فَإِنِ امْرُؤٌ شَاتَمَہٗ أَوْ قَاتَلَہٗ، فَلْیَقُلْ: إِنِّی صَائِمٌ، إِنِّی صَائِمٌ)) [1] ’’جب تم میں سے کوئی شخص کسی دِن روزہ رکھے تو وہ نہ بے ہودہ گوئی کرے اور نہ ہی جہالت کا مظاہرہ کرے، اگر کوئی آدمی اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو اس کو (جواب میں یہ) کہنا چاہیے کہ میں روزے دار ہوں، میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔‘‘ ٭…سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((رُبَّ صَائِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ صِیَامِہٖ إِلَّا الْجُوعُ، وَرُبَّ قَائِمٍ لَیْسَ لَہٗ مِنْ قِیَامِہٖ إِلَّا السَّہَرُ)) [2] ’’کئی روزے دار ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں روزے سے صرف بھوک ہی حاصل ہوتی ہے اور کئی قیام کرنے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جنہیں قیام سے صرف شب بیداری ہی ملتی ہے۔‘‘ یعنی وہ روزہ تو رکھ لیتے ہیں لیکن روزے کے تقاضے پورے نہیں کرتے، بے ہودہ گوئی کرتے ہیں، جہالت کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں، زبان اور ہاتھ کی حفاظت نہیں کرتے، تو ایسے لوگوں کو صرف بھوک ہی ملتی ہے، اجر و ثواب نہیں ملتا۔ یعنی ان کا سارا دن بھوکا پیاسا رہنا [1] صحیح مسلم: ۱۱۵۱. [2] سنن ابن ماجہ: ۱۶۹۰۔ صحیح الجامع: ۳۴۸۸.