کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 354
علاوہ کوئی روزہ نہ رکھے۔‘‘ اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ خاوند کے حقوقِ زوجیت کی ادائیگی زیادہ ضروری ہے اور ہمبستری روزے کی حالت میں جائز نہیں، لہٰذا ایسا نہ ہو کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھ لے اور خاوند کے لیے اذِیت کا باعث بن جائے۔ البتہ فرض روزے کے لیے اجازت قطعاً ضروری نہیں۔ 5. نصف شعبان کے بعد روزے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ، فَلَا تَصُومُوا، حَتّٰی یَکُونَ رَمَضَانُ)) [1] ’’جب شعبان کا مہینہ آدھا گزر جائے تو تم روزے نہ رکھو، یہاں تک کہ رمضان شروع ہو جائے۔‘‘ اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ شعبان کے نفلی روزے رکھتے رکھتے جسمانی کمزوری پیدا ہو جائے اور رمضان کے فرضی روزے رکھنے میں دُشواری ہو یا وہ چھوٹ ہی جائیں۔ روزے کے آداب (1) روزے کی نیت: ٭…سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ لَمْ یُجْمِعِ الصِّیَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَلَا صِیَامَ لَہٗ))[2] ’’جو شخص فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کرے اس کا روزہ نہیں ہوتا۔‘‘ ٭…سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح الجامع: ۳۹۷. [2] سنن أبی داود: ۲۴۵۴۔ سنن الترمذی: ۷۳۰۔ سنن النسائی: ۲۳۳۳.