کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 353
الْأَضْحٰی۔[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔‘‘ 2. ایامِ تشریق کے روزے: سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَیَّامُ مِنًی أَیَّامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ)) یَعْنِیْ أَیَّامُ التَّشْرِیْقِ۔[2] ’’ایامِ منیٰ کھانے پینے کے دِن ہیں۔‘‘ یعنی ایامِ تشریق۔ ماہِ ذوالحجہ کی گیارہ، بارہ اور تیرہ تاریخ کے دنوں کو ایامِ منیٰ اور ایامِ تشریق کہا جاتا ہے۔ 3. شک کے دِن کا روزہ: صلہ بن زُفر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے اور یہ وہ دن تھا جس میں لوگوں کو شک تھا (کہ آیا یہ روزے کا دِن ہے یا نہیں؟) اسی دوران بکری کا گوشت لایا گیا تو کچھ لوگ ایک طرف ہو کر بیٹھ گئے (یعنی انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا) یہ دیکھ کر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مَنْ صَامَ ہٰذَا الْیَوْمَ فَقَدْ عَصٰی أَبَا الْقَاسِمِ۔[3] ’’جس نے اس دِن کا روزہ رکھا، اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔‘‘ 4. عورت کا خاوند کی اجازت کے بغیر روزہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَصُوْمُ الْمَرَأَۃُ وَزَوْجُہَا شَاہِدٌ یَوْمَ مِنْ غَیْرِ رَمَضَانَ إِلَّا بِإِذْنِہٖ))[4] ’’عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر ماہِ رمضان کے [1] مسند أحمد: ۱۱۸۰۴۔ سنن ابن ماجہ: ۱۷۲۱. [2] صحیح مسلم: ۱۱۴۲. [3] صحیح البخاری: ۱۹۰۶. [4] سنن ابن ماجہ: ۱۷۶۱۔ سنن الترمذی: ۷۸۲.