کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 352
3. صرف جمعہ اور ہفتہ کا روزہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَصُوْمُوْا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ إِلَّا وَقَبْلَہٗ یَوْمٌ أَوْ بَعْدَہٗ یَوْمٌ)) [1] ’’تم جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھو، ہاں اگر اس سے ایک دن پہلے یا اس سے ایک دن بعد کا بھی رکھ لو (تو پھر کوئی حرج نہیں)۔‘‘ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ((لَاتَصُوْمُوْا یَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِیْمَا افْتَرَضَ عَلَیْکُمْ)) [2] ’’تم ہفتے کے دن کا روزہ نہ رکھو، سوائے اس روزے کے جو تم پر فرض تھا۔‘‘ 4. صرف ماہِ رجب کا روزہ: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: نَہٰی عَنْ صَوْمِ رَجَبَ۔[3] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب کے روزے سے منع فرمایا۔‘‘ حرام روزے چند ایام و احوال ایسے ہیں کہ جن میں روزے رکھنا شریعت نے حرام قرار دیا ہے، جو کہ درج ذیل ہیں: 1. عید کے دِن کا روزہ: سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم نَہٰی عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْفِطْرِ وَیَوْمِ [1] صحیح البخاری: ۱۹۸۵۔ صحیح مسلم: ۲۶۷۸. [2] سنن الترمذی: ۷۴۴۔ سنن أبی داود: ۲۴۲۱۔ سنن ابن ماجہ: ۱۷۲۶. [3] سنن ابن ماجہ: ۱۷۴۳.