کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 351
’’جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو (جہنم کی) آگ سے ستر سال تک دُور فرما دیتا ہے۔‘‘ مکروہ روزے روزے کی جو صورتیں شریعت کی نگاہ میں مکروہ (ناپسندیدہ) ہیں، وہ یہ ہیں: 1. زندگی بھر روزہ رکھتے رہنا: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ)) [1] ’’جس نے ہمیشہ روزے رکھے، اس نے گویا روزے نہیں رکھے۔‘‘ یعنی بغیر وقفے اور بغیر ناغہ کیے مسلسل روزے رکھنا مکروہ ہے، بلکہ مذکورہ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیشِ نظر ایسا کرنے والا شخص ثواب سے محروم ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے طریقے کی پیروی نہیں کر رہا ہوتا، جو کہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بہت زیادہ طاقت بھی رکھتا ہو اور روزے رکھنے کا بہت زیادہ حریص بھی ہو تو پھر بھی وہ ایک دِن کے ناغے سے روزے رکھے، یعنی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دِن چھوڑے۔ اس ہدایتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنا ثواب کی محرومی کا باعث بن سکتا ہے۔ 2. حجاج کرام کے لیے روزہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ۔[2] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یومِ عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔‘‘ واضح رہے کہ یہ ممانعت صرف حجاج کرام کے لیے ہے، جو عرفات میں موجود ہوتے ہیں۔ [1] صحیح البخاری: ۱۹۷۷۔ صحیح مسلم: ۲۷۲۶. [2] صحیح البخاری: ۱۹۸۸۔ صحیح مسلم: ۲۶۲۷.