کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 348
3. ایامِ بیض کے روزے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم لَا یَدَعُ صَوْمَ أَیَّامِ الْبِیضِ فِی سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ۔[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر اور قیام میں ایامِ بیض (چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ) کے روزے نہیں چھوڑا کرتے تھے۔‘‘ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَا أَبَا ذَرٍّ، إِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّہْرِ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَۃَ، وَخَمْسَ عَشْرَۃَ)) [2] ’’اے ابوذر! جب تم مہینے میں تین دن کے روزے رکھو تو تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے رکھا کرو۔‘‘ 4،5. یومِ عرفہ اوریومِ عاشوراء کا روزہ: سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((صَوْمُ یَوْمِ عَرَفَۃَ یُکَفِّرُ سَنَتَیْنِ مَاضِیَۃً وَمُسْتَقْبَلَۃً، وَصَوْمُ عَاشُورَائَ یُکَفِّرُ سَنَۃً مَاضِیَۃً)) [3] ’’یومِ عرفہ کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ کر دیتا ہے: ایک گزشتہ سال کا اور ایک آئندہ سال کا اور عاشوراء کا روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ کرتا ہے۔‘‘ [1] صحیح الجامع: ۴۸۴۸۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۵۸۰. [2] سنن الترمذی: ۷۶۱۔ صحیح الجامع: ۶۷۳. [3] مسند أحمد: ۲۲۵۳۵۔ سنن النسائی: ۲۳۸۲۔ سنن أبی داود: ۲۴۲۵۔ سنن ابن ماجہ: ۱۷۲۰۔ صحیح الجامع:۳۸۰۶.