کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 347
((فَصُوْمِیْ عَنْ أُمِّکَ)) [1] ’’اپنی والدہ کی طرف سے تم روزے رکھو۔‘‘ فضیلت والے روزے صحیح اور مستند احادیثِ مبارکہ میں جن روزوں کے فضائل بیان ہوئے ہیں اور ان کا اہتمام کثیر اجر و ثواب کا باعث بنتا ہے، وہ نو قسم کے ہیں، جو کہ ذیل میں بیان کیے جا رہے ہیں: 1. شوال کے چھے روزے: سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبعَہٗ سِتًّا مِنْ شَوَالٍ فَذٰلِکَ صیَام الدَّہْرِ)) [2] ’’جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے، پھر اس کے متصل بعد شوال کے چھے روزے رکھے، تو یہ سارا سال روزے رکھنے کے برابر ہے۔‘‘ 2. ذوالحجہ کے دس اور ہر ماہ میں تین روزے: سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: أَرْبَعٌ لَمْ یَکُنْ یَدَعُہُنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم صَیامَ عَاشُوْرَائَ، وَالْعَشْرَ، وَثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ، وَالرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْغَدَاۃِ۔[3] ’’چار اعمال ایسے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا نہیں: عاشوراء کا روزہ، (ذوالحجہ کے پہلے) دس دن کے روزے، ہر مہینے میں تین دن کے روزے اور صبح (کی نماز) سے پہلے دو رکعتیں۔‘‘ [1] صحیح البخاری: ۱۹۵۳۔ صحیح مسلم: ۲۶۹۱. [2] صحیح مسلم: ۱۱۸۴. [3] سنن النسائی: ۲۴۱۵.