کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 344
وَعِشْرِینَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ)) [1] ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان المبارک کی پہلی رات کو نازل ہوئے، تورات چھے رمضان المبارک کو نازل ہوئی، انجیل تیرہ رمضان المبارک کو نازل ہوئی اور فرقان (قرآنِ کریم) چوبیس رمضان المبارک کو نازل ہوا۔‘‘ رمضان میں لاپروائی کا خمیازہ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَتَانِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ مَنْ أَدْرَکَ أَحَدَ وَالِدَیْہِ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَہُ اللّٰہُ قُلْ آمِینَ، فَقُلْتُ: آمِینَ، قَالَ: یَا مُحَمَّدُ مَنْ أَدْرَکَ شَہْرَ رَمَضَانَ فَمَاتَ فَلَمْ یُغْفَرْ لَہٗ فَأُدْخِلَ النَّارَ فَأَبْعَدَہُ اللّٰہُ قُلْ آمِینَ، فَقُلْتُ: آمِینَ، قَالَ: وَمَنْ ذُکِرْتَ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْکَ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَہُ اللّٰہُ، قُلْ آمِینَ، فَقُلْتُ: آمِینَ)) [2] ’’جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا: اے محمد! جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو (اپنی زندگی میں) پا لیا، پھر وہ (ان کی خدمت کیے بغیر ہی) فوت ہو گیا اور (اس کی سزا میں) جہنم میں داخل ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کو (اپنی رحمت سے) دُور فرمائے، (اے نبی!) آپ آمین کہیں۔ سو میں نے آمین کہا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے محمد! جس نے ماہِ رمضان کو پا لیا، پھر وہ (اس حالت میں) فوت ہوا کہ اس کی مغفرت نہ کی گئی اور اسے جہنم میں داخل کر دیا گیا، اللہ تعالیٰ اس کو (اپنی رحمت سے) دُور فرمائے، آپ آمین کہیں۔ سو میں [1] صحیح الجامع: ۱۴۹۷۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۵۷۵. [2] المعجم الکبیر للطبرانی: ۲۰۲۲۔صحیح الجامع : ۷۵.