کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 343
’’جس نے اللہ کی راہ میں ایک دِن کا روزہ رکھا، اللہ اس کے اور جہنم کے درمیان (اتنی بڑی) خندق بنا دیتا ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔‘‘ 9. روزہ اسرارِ ربانی ہے اور جنت میں داخلے کا سبب ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَہٗ، إِلَّا الصِّیَامَ، فَإِنَّہٗ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہٖ))[1] ’’ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزے کے، کیونکہ بلاشبہ یہ میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔‘‘ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ جَائَ یَعْبُدُ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا، وَیُقِیمُ الصَّلَاۃَ، وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ، وَیَصُومُ رَمَضَانَ، وَیَجْتَنِبُ الْکَبَائِرَ، فَإِنَّ لَہُ الْجَنَّۃَ)) [2] ’’جو شخص (اس حالت میں) آئے گا کہ وہ اللہ کی عبادت کرتا ہو گا، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو گا، نماز قائم کرتا ہو گا، زکاۃ کی ادائیگی کرتا ہو گا، رمضان کے روزے رکھتا ہو گا اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو گا، تو یقینا اس کے لیے جنت ہو گی۔‘‘ 10. رمضان آسمانی کتابوں کے نزول کا مہینہ ہے: سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أُنْزِلَتْ صُحُفُ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فِی أَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَتِ التَّوْرَاۃُ لِسِتٍّ مَضَیْنَ مِنْ رَمَضَانَ، وَالْإِنْجِیلُ لِثَلَاثَ عَشْرَۃَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَ الْفُرْقَانُ لِأَرْبَعٍ [1] صحیح البخاری: ۱۹۰۴۔ صحیح مسلم: ۱۱۵۱. [2] مسند أحمد: ۲۳۵۰۲۔ المعجم الکبیر للطبرانی: ۳۸۸۶۔صحیح الجامع : ۶۱۸۵.