کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 341
بَاغِیَ الْخَیْرِ أَقْبِلْ وَیَا بَاغِیَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، وَلِلّٰہِ عُتَقَائُ مِنَ النَّارِ وَذَالِکَ کُلَّ لَیْلَۃٍ)) [1] ’’جب ماہِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، پھر ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہیں جاتا، جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، اور روزانہ رات کو ایک آواز لگانے والا یہ آواز لگاتا ہے: اے بھلائی کے متلاشی! آ جا، اور اے برائی کے متلاشی! بس کر جا۔ اور اللہ تعالیٰ جہنم سے (بعض) لوگوں کو آزاد کرتا ہے، اور یہ (رمضان کی) ہر رات میں ہوتا ہے۔‘‘ 6. روزہ بہترین سفارشی ہے: سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلصِّیَامُ وَالْقُرْآنُ یَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، یَقُولُ الصِّیَامُ: أَیْ رَبِّ، مَنَعْتُہُ الطَّعَامَ وَالشَّہَوَاتِ بِالنَّہَارِ، فَشَفِّعْنِی فِیہِ، وَیَقُولُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُہُ النَّوْمَ بِاللَّیْلِ، فَشَفِّعْنِی فِیہِ، فَیُشَفَّعَانِ)) [2] ’’قیامت کے دِن روزہ اور قرآن بندے کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اسے دِن کے وقت کھانے اور خواہشات سے روکے رکھا، سو تُو اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: میں نے اسے رات کے وقت سونے سے روکے رکھا، سو تُو اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما۔ تو دونوں کی سفارش قبول کر لی جائے گی۔‘‘ [1] صحیح الجامع: ۷۵۹۔ صحیح الترغیب والترھیب: ۹۹۸. [2] مسند أحمد: ۶۶۲۶۔المستدرک للحاکم: ۲۰۳۶۔ صحیح الجامع : ۳۸۸۲.