کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 340
’’یقینا ہر افطاری کے وقت اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو (جہنم کی) آگ سے آزاد کرتا ہے اور یہ ہر رات میں (یعنی روزانہ) ہوتا ہے۔‘‘ 4. روزہ فتنوں کا خاتمہ ہے: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فِتْنَۃُ الرَّجُلِ فی أَہْلِہٖ وَمَالِہٖ وَنَفْسِہٖ وَوَلَدِہٖ وَجَارِہٖ یُکَفِّرُہَا الصِّیَامُ وَالصَّلَاۃُ وَالصَّدَقَۃُ وَالأَمْرُ بِالمَعْرُوفِ وَالنَّہْیُ عَنِ المُنْکَرِ)) [1] ’’آدمی پر اپنے گھروالوں، اپنے مال، اپنی جان، اپنی اولاد اور اپنے ہمسائے کے بارے میں کوئی آزمائش آتی ہے تو اس کی معافی روزے، نماز، صدقے، امربالمعروف اور نہی عن المنکر سے ہو جاتی ہے۔‘‘ 5. رمضان المبارک میں شیطان باندھ دِیے جاتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا دَخَلَ شَہْرُ رَمَضَانَ فُتِحَتْ أَبْوابُ الْجَنَّۃِ وغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَہَنَّمَ وسُلْسِلَتِ الشَّیَاطِینُ)) [2] ’’جب ماہِ رمضان داخل ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دِیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دِیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔‘‘ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا کَانَ أَوَّلُ لَیْلَۃٍ مِنْ شَہْرِ رَمَضانَ صُفِّدَتِ الشَّیَاطِینُ ومَرَدَۃُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ یُفْتَحْ مِنْہَا بَابٌ، وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ فَلَمْ یُغْلَقْ مِنْہَا بَابٌ، وَیُنَادِی مُنادٍ کُلَّ لَیْلَۃٍ یَا [1] صحیح البخاری: ۵۲۵۔ صحیح مسلم: ۱۴۴. [2] صحیح الجامع: ۵۲۷۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۳۰۷.