کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 333
پر بیٹھ جانا۔ اس کو تَوَرُّکْ کہتے ہیں۔جیساکہ سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری رکعت کے بعد تشہدبیٹھتے تواپنے بائیں پاؤں کو آگے کرتے اور دوسرے کوکھڑا کر دیتے اور اپنی سرین پر بیٹھ جاتے۔[1] (2)… دونوں پاؤں دائیں طرف نکال کربائیں سرین پر بیٹھ جانا۔ جیسا کہ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم چوتھی رکعت میں ہوتے تو بائیں ران کوزمین کے ساتھ لگاتے اور اپنے دونوں قدموں کوایک ہی (دائیں) جانب سے نکال لیتے۔[2] (3)… بائیں پاؤں کو پنڈلی اور ران کے درمیان رکھنا اور دائیں پاؤں کو بچھانا۔ جیساکہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری تشہد میں بیٹھتے تواپنے بائیں قدم کو اپنی ران اور پنڈلی کے درمیان رکھتے اور دائیں قدم کو بچھا دیتے۔[3] نوٹ:… مرد اور عورت کے تشہد بیٹھنے کی کیفیت میں(بلکہ پوری نماز میں) کوئی فرق نہیں ہے، جیساکہ مکحول رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: کَانَتْ أُمُّ الدَّرْدَائِ تَجْلِسُ فِی صَلَاتِہَا جِلْسَۃَ الرَّجُلِ، وَکَانَتْ فَقِیْہَۃً۔ ’’اُم الدرداء رضی اللہ عنہا نماز میں اس طرح بیٹھتی تھیں جس طرح آدمی بیٹھتا ہے، اور وہ فقیہہ تھیں۔‘‘ تشہد کی دعائیں: (1)… سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں (تشہد) بیٹھے تو اس کو یہ پڑھنا چاہیے: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ [1] صحیح البخاری: ۸۲۸. [2] سنن أبی داود: ۹۶۵۔ صحیح ابن حبان: ۱۸۶۷. [3] صحیح مسلم: ۱۳۰۷.