کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 330
تمام جوڑ اطمینان کی حالت میں آجاتے، پھر آپ اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہہ کر سر اٹھاتے، حتیٰ کہ آپ برابر ہو کر اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاتے۔[1] دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا: دو سجدوں کے درمیان میں بیٹھنے کے سلسلے میں درج ذیل سنتوں پر عمل ضروری ہے: (1)… سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بائیں پاؤں کو بچھاتے اور دائیں کو کھڑا رکھتے تھے۔[2] (2)… ہاتھوں کو گھٹنوں پررکھیں، جیسا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نمازمیں بیٹھتے تواپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے۔[3] ایک مسنون طریقہ یہ ہے کہ دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھیں، جیساکہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ( تشہد میں) بیٹھتے تواپنے دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر رکھتے اور اپنے بائیں ہاتھ کو بائیں ران پراور شہادت کی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے اور اپنے انگوٹھے کو درمیان والی انگلی پر رکھتے اوراپنی بائیں ہتھیلی کے ساتھ اپنے گھٹنے کو مضبوطی کے ساتھ پکڑتے۔[4] دعا کرنا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَعَافِنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ۔[5] ’’اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھے عافیت (حفاظت ) میں رکھ، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عنایت کر۔‘‘ [1] سنن أبی داود: ۸۵۷. [2] صحیح مسلم: ۱۱۱۰. [3] صحیح مسلم: ۱۳۰۹. [4] صحیح مسلم: ۱۳۰۸. [5] سنن أبی داود: ۸۵۰ ۔ سنن ابن ماجہ: ۸۹۸.