کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 328
ضروری ہے۔[1] سجدہ کرنا: سجدہ کرتے وقت مندرجہ ذیل طریقہ اختیارکرنا چاہیے: 1: امام سے سبقت نہ کی جائے، یعنی اس سے پہلے سجدے کے لیے نہ جھکیں۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی اس وقت تک اپنی کمر (سجدے کے لیے) نہیں جھکاتا تھا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ لیتے۔[2] 2: زمین پر گھٹنوں سے پہلے ہاتھوں کو رکھنا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اس طرح نہ بیٹھے جس طرح اونٹ بیٹھتا ہے اور اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں سے پہلے زمین پررکھے۔[3] 3: سجدہ سات ہڈیوں پر ہونا چاہیے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں، پیشانی پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا، دونوں ہاتھوں پر، دونوں گھٹنوں پر اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر اور ہم کپڑوں اور بالوں کونہ سمیٹیں۔[4] 4: سجدے میں اپنی کہنیوں کو زمین سے بلند رکھیں اور اعتدال (اطمینان وسکون) کو لازم پکڑیں۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو سجد ہ کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر رکھ اور اپنی کہنیوں کو بلندکر۔[5] 5: سجدہ کرتے ہوئے ناک اور پیشانی کو ایک ساتھ زمین پر رکھیں، اپنے ہاتھوں کو پہلوؤں سے الگ رکھیں اور ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں کے برابر رکھیں۔ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ بیان [1] صحیح البخاری: ۷۸۹. [2] صحیح البخاری: ۸۱۱. [3] سنن أبی داود: ۸۴۰. [4] صحیح البخاری: ۸۱۲۔ صحیح مسلم: ۱۰۹۸. [5] صحیح مسلم: ۱۱۰۴.