کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 325
’’جب امام غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ کہے تو تم آمِیْنَ کہو کیونکہ جس کاقول فرشتوں کے قول کے ساتھ موافق ہوگیا، اس کے سابقہ گناہ معاف کردیے جائیں گے۔‘‘ سورۃ الفاتحہ کے ساتھ دوسری سورت ملانا: سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ مِنْ صَلٰوۃِ الظُّہْرِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُوْرَتَیْنِ یُطَوِّلُ فِی الْأُوْلٰی وَیُقَصِّرُ فِی الثَّانِیَۃِ وَیُسْمِعُ الآیَۃَ أَحْیَاناً وَکَانَ یَقْرَأُ فِی الْعَصْرِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُوْرَتَیْنِ وَکَانَ یُطَوِّلُ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی مِنْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ وَیُقَصِّرُ فِی الثَّانِیَۃِ۔[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ کے ساتھ ایک ایک سورت ملاکر پڑھتے تھے۔ پہلی رکعت میں لمبی اور دوسری رکعت میں اس سے مختصر قراء ت کرتے اور کبھی کبھار آپ ہمیں کوئی ایک آیت سنا دیتے تھے اور اسی طرح عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ کیساتھ ایک ایک سورت ملاتے اور صبح کی نماز میں پہلی رکعت لمبی اور دوسری رکعت اس کی نسبت چھوٹی کرتے۔‘‘ ٭…ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے قرآن مجید میں سے کچھ بھی یاد نہیں ہوتا لہٰذا آپ مجھے وہ کلمات سکھلا دیں جومجھے نماز میں کفایت کر جائیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ کلمات پڑھ لیا کر: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔[2] [1] صحیح البخاری: ۷۵۹۔ صحیح مسلم: ۱۰۱۳. [2] سنن أبی داود: ۸۳۲۔ سنن النسائی: ۹۲۴.