کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 324
کُنَّا خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم فِی صَلٰوۃِ الْفَجْرِ فَقَرَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم فَثَقُلَتْ عَلَیْہِ الْقِرَائَ ۃُ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ لَعَلَّکُمْ تَقْرَؤُنَ خَلْفَ إِمَامِکُمْ؟ قُلْنَا: نَعَمْ ہٰذَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم قَالَ لَا تَفْعَلُوْا إِلَّا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فَإِنَّہُ لاَ صَلٰوۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ ِبہَا۔[1] ’’ہم ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فجر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراء ت کی تو آپ کے لیے قراء ت کرنا مشکل ہوگیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: لگتا ہے تم اپنے امام کے پیچھے قرائت کرتے ہو؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہاں ایسا ہی ہے۔ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح مت کرو۔ صرف سورۃ الفاتحہ پڑھا کرو کیونکہ جس شخص نے سورۃ الفاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں ہوتی۔‘‘ اُونچی آواز سے آمین کہنا: سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم إِذَا قَرَأَ وَلاَ الضَّالِّیْنَ قَالَ آمِیْنَ وَرَفَعَ بِہَا صَوْتَہٗ۔[2] ’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَلاَ الضَّالِّیْنَ پڑھتے تو بلند آوازکے ساتھ آمین کہتے۔‘‘ سیدنا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ فَقُوْلُوْا: آمِیْنَ فَإِنَّہُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُہُ قَوْلَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ))[3] [1] سنن أبی داود: ۸۲۳۔ سنن الترمذی: ۳۱۱. [2] سنن أبی داود: ۹۳۲۔ سنن الترمذی: ۲۴۸. [3] صحیح البخاری: ۷۸۲۔ صحیح مسلم: ۹۱۵.