کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 323
اَللّٰہُمَّ بَاعِدْ بَیْنِی وَبَیْنَ خَطَایَايَ کَمَا بَاعَدْتَّ بَیْنَ الْمَشْرِقِ والْمَغْرِبِ، اَللّٰہُمَّ نَقِّنِیْ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الْأَبْیَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اَللّٰہُمَّ اغْسِلْ خَطَایَايَ بِالْمَائِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ۔[1] ’’اے اللہ میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری ڈال دے جس طر ح تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے، اے میرے اللہ! مجھے گناہوں سے صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیاجاتاہے، اے میرے پروردگار! میرے گناہوں کو پانی ، برف اور اولوں سے دھو ڈال۔‘‘ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو یہ دعا بھی پڑھا کرتے تھے: سُبْحٰنَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَلَا إِلٰہَ غَیْرُکَ۔[2] ’’پاک ہے تو اے اللہ! اپنی تعریف کے ساتھ اورتیرا نام بابرکت ہے اور تیری بزرگی بلند ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔‘‘ سورۃ الفا تحہ پڑھنا: مقتدی اور امام دونوں کے لیے حکم ہے کہ وہ سورت فاتحہ پڑھیں اور تکمیلِ نماز کے لیے یہ بہت ضروری ہے، جیساکہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا صَلٰوۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ)) [3] ’’اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس نے سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی۔‘‘ اورسیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ: [1] صحیح البخاری: ۷۴۴۔ صحیح مسلم: ۱۳۵۴. [2] صحیح مسلم: ۸۹۲. [3] صحیح البخاری: ۷۵۶۔ صحیح مسلم: ۸۷۴، ۸۷۵، ۸۷۶.