کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 322
کَانَ إِذَا کَبَّرَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ بِہِمَا أُذُنَیْہِ [حَتّٰی یُحَاذِیَ بِہِمَا فُرُوْعَ أُذُنَیْہِ] وَإِذَا رَکَعَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ بِہِمَا أُذُنَیْہِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ۔[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرنے کے لیے تکبیر کہتے تو رفع یدین (دونوں ہاتھ اٹھایا) کرتے،یہاں تک کہ کانوں کے برابر یا کانوں کی لَو تک اٹھاتے اور جب رکوع کرتے یا رکوع سے اٹھتے تب بھی کانوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے۔‘‘ سینے پر ہاتھ باندھنا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سینے پر ہاتھ باندھتے وقت کبھی اپنادایاں ہاتھ بائیں ہتھیلی پر، کبھی جوڑ پر، کبھی بازو پررکھتے، جیسا کہ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: فَنَظَرْتُ إِلَیْہِ فَقَامَ فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی حَاذَتَا بِأُذُنَیْہِ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی کَفِّہِ الْیُسْرٰی وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ۔[2] ’’…میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، تکبیر کہی اور اپنے ہاتھوں کو کانوں کے برابر بلند کیا، پھر دایاں ہاتھ بائیں ہتھیلی اور کلائی(گُٹ ) اور بازو پر رکھا۔‘‘ دعائے استفتاح: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر کہتے تو قراء ت سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں! آپ تکبیر اور قراء ت کے درمیان خاموشی سے کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہ پڑھتاہوں: [1] صحیح البخاری: ۷۳۷۔ صحیح مسلم: ۸۶۵. [2] سنن النسائی: ۸۸۹۔ سنن أبی داود: ۷۲۶.