کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 320
ضَرَبَ بِیَدَیْہِ الْأَرْضَ ضَرْبَۃً وَاحِدَۃً، وَ نَفَخَ فِیْہِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِہِمَا ظَہْرَ کَفِّہِ بِشِمَالِہٖ ثُمَّ مَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہٗ۔[1] ’’مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لیے بھیجا تو (دوران سفر) میں جنبی (ناپاک ) ہو گیا پھرمجھے پانی بھی نہ ملا تومیں نے مٹی میں اس طرح لیٹنی لے لی جس طرح کوئی چوپایہ (جانور) لیٹنی لیتا ہے۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے یہی کافی تھا کہ تواس طرح کرتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ صرف ایک دفعہ زمین پر مارے، پھران دونوں میں پھونکا، پھر بائیں ہتھیلی کو دائیں پر اوردائیں کو بائیں پر اوران دونوں ہتھیلیوں کو چہرے پر پھیرا۔‘‘ نماز کا مسنون طریقہ اب بالتفصیل نماز کا مسنون طریقہ ملاحظہ فرمائیں: دِل سے نیت کرنا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ)) [2] ’’عملوں (کی قبولیت) کادارومدار نیتوں پر ہے۔‘‘ نوٹ:… نیت قصد اور ارادے کو کہتے ہیں جوکہ دل کی کیفیت ہے، اس لیے نیت کامحل دل ہے یعنی دل سے ارادہ کرلینا ہی کافی ہے، زبان سے الفاظ ادا کرنا ضروری نہیں ہیں اور نہ ہی یہ مشروع ہے۔[3] [1] صحیح البخاری: ۳۴۷ ، ۳۳۸۔ صحیح مسلم: ۸۱۸، ۸۱۹. [2] صحیح البخاری: ۱۔ صحیح مسلم: ۴۹۲۷. [3] فتح الباری: ۱/۱۶، ۱۷.