کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 317
’’پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا مسح کیا اور دونوں کانوں کے اندر ونی حصے کا شہادت کی انگلیوں سے اور بیرونی حصے کا انگوٹھوں کے ساتھ مسح کیا۔‘‘ پاؤں کو ٹخنوں تک تین باردھوئیں سیدنا حمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ((ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ إِلَی الْکَعْبِیْنِ)) [1] ’’پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے دونوں پاؤں ٹخنوں تک تین مرتبہ دھوئے۔‘‘ پاؤں کو مل کر دھوئیں اور انگلیوں کا خلال کریں سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ صلي اللّٰه عليه وسلم إِذَا تَوَضَّأَ یَدْلُکُ أَصَابِعَ رِجْلَیْہِ بِخِنْصَرِہٖ۔[2] ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ وضوء کرتے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو اپنی چھنگلی کے ساتھ ملتے تھے۔‘‘ نوٹ:… اگر موزے یا جرابیں پہنی ہوں تو ان پر مسح کیا جا سکتا ہے۔ سیدنا مغیرۃ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضوء کروایا توآپ نے اپنے موزوں پرمسح کیا۔ (میں آپ کے موزے اتارنے کے لیے جھکا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے موزوں کو پاکی (وضو) کی حالت میں پہنا تھا (اس لیے اتارنے کی ضرورت نہیں)۔ [3] اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کیا اورجرابوں پر مسح کیا۔[4] [1] صحیح البخاری: ۱۵۹۔ صحیح مسلم: ۵۳۷. [2] سنن أبی داود: ۱۴۸. [3] صحیح البخاری: ۲۰۳۔ صحیح مسلم: ۶۳۱. [4] سنن الترمذی: ۹۹۔ سنن أبی داود: ۱۵۹.