کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 315
أَنَّ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ دَعَا بِوَضُوْئٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَلاَثَ مَرَّا تٍ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ۔[1] ’’عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور وضوء کیا اور ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا پھر کلی کی اور ناک جھاڑی ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایااور بائیں ہاتھ سے ناک جھاڑی۔[2] منہ کو تین بار دھوئیں سیدنا حمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ((…ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہٗ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ)) [3] ’’پھرعثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا۔‘‘ داڑھی کا خلال کریں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: کَانَ إِذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ کَفًّامِنْ مَّائٍ فَأَدْخَلَہٗ تَحْتَ حَنَکِہٖ فَخَلَّلَ بِہٖ لِحْیَتَہٗ وَقَالَ ہٰکَذَا أَمَرَنِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ۔[4] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضوء کرتے توایک چلو پانی لے کر ٹھوڑی کے نیچے داخل کرتے اور اس سے داڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے: مجھے میرے رب عزوجل نے ایسے ہی حکم دیا ہے۔‘‘ ہاتھوں کو تین بار کہنیوں تک دھوئیں سیدنا حمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: [1] صحیح البخاری: ۱۵۹۔ صحیح مسلم: ۵۳۷. [2] سنن النسائی: ۹۱. [3] صحیح البخاری: ۱۵۹۔ صحیح مسلم: ۵۳۷. [4] سنن أبی داود: ۴۶۹۹.