کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 313
مَرَّاتٍ ہَلْ یَبْقٰی مِنْ دَرَنِہٖ شَیْئٌ؟))[1] ’’تمھارا کیا خیال ہے اگر کسی کے دروازے پر ہو اور وہ اسمیں ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرے، کیا اس کی کوئی میل کچیل باقی رہے گی؟‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اس کی میل کچیل باقی نہیں رہے گی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَذَالِکَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ یَمْحُو اللّٰہُ بِہِنَّ الْخَطَایَا)) [2] ’’اسی طرح پانچ نمازیں ہیں کہ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ تمام گناہ ختم کردیتا ہیں۔‘‘ نماز کا عملی طریقہ کسی بھی عبادت کی قبولیت اور اس کے اجروثواب کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو وگرنہ وہ عبادت مردود (ناقابل قبول)ہوگی ۔ چونکہ نماز کے لیے وضوء ضروری ہے، اس لیے پہلے وضوء کا مسنون طریقہ بیان کیا جا رہا ہے۔ وضو کا طریقہ دِل سے نیت کریں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ)) [3] ’’عملوں کی قبولیت کادارومدار نیتوں پر ہے۔‘‘ نوٹ:… نیت قصد اور ارادے کو کہتے ہیں جوکہ دل کی کیفیت ہے لہٰذا نیت کامحل دل ہے۔ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا درست نہیں۔ [1] صحیح البخاری: ۵۲۸۔ صحیح مسلم: ۱۵۲۲. [2] صحیح البخاری: ۱۔ صحیح مسلم: ۴۹۰۴. [3] فتح الباری: ۱/۱۶ ،۱۷.