کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 306
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں‘‘ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہے وہ شرک سے بری ہوتا ہے۔‘‘ 6. توحیددنیا وآخرت میں نفع کی ضمانت ہے: سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ قَالَ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ نَفَعَتْہُ یَوْمًا مِنْ دَھْرِ یُصِیْبُہٗ قَبْلَ ذٰلِکَ مَا أَصَابَہٗ))[1] ’’جس شخص نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، زندگی میں یہ گواہی ضرور نفع دے گی اس سے پہلے جو بھی اسے مصیبت آئی ہو، جو بھی اس سے گناہ ہوا ہو۔‘‘ 7. توحید؛ شفاعتِ نبوی کا سبب ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَسْعَدُ النَّاس بِشَفَاعَتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ قَالَ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِہٖ أَوْ نَفْسِہٖ))[2] ’’میری شفاعت کا سب سے زیادہ حقدار وہ ہو گا جس نے دل وجان سے خالص ہو کریہ گواہی دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘ 8.توحید اللہ کی رضا کا سبب ہے: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ یَقُوْلُ حِیْنَ یُصْبِحُ وَحِیْنَ یُمْسِیْ ثَلاَثَ [1] صحیح الجامع: ۶۴۳۴۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۹۳۲. [2] صحیح البخاری: ۹۹، ۶۵۷۰.