کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 305
4. توحید ہی ایمانی حلاوت کے حصول کا سبب ہے: سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ثَلاَثٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ وَجَدَ بِہِنَّ حَلاَوَۃَ الْإِیْمَانِ: مَنْ کَانَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا سِوَاہُمَا وَأَنْ یُحِبَّ الْمَرْئَ لاَ یُحِبُّہٗ إِلاَّ لِلّٰہِ وَأَنْ یَکْرَہَ أَنْ یَعُوْدَ فِیْ الْکُفْرِ بَعْدَ أَنْ اَنْقَذَہُ اللّٰہُ مِنْہُ کَمَا یَکْرَہُ أَنْ یُقْذَفَ فِیْ النَّارِ)) [1] ’’تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں وہ پائی جاتی ہوں وہ ان کی بدولت ایمان کی لذت اور مٹھاس پالے گا: اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسے پور ی کائنات کے مقابلے میں زیادہ محبت ہو، وہ کسی شخص سے صرف اللہ کے لئے محبت رکھتاہو اورایمان لانے کے بعد کفر میں لوٹنے کو اس طرح برا سمجھے، جیسے آگ میں ڈالے جانے کو وہ برا سمجھتا ہے۔‘‘ 5.توحیدشرک سے براء ت کا سبب ہے: سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: بَیْنَمَا نَحْنُ نَسِیْرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم سَمِعَ رَجُلًا فِی الْوَادِیْ یَقُوْلُ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلَ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم: ((وَأَنَا أَشْہَدُ أَنْ لاَّ یَشْہَدُ بِہَا أَحَدٌ إِلاَّ بَرِیَٔ مِنَ الشِّرْکِ)) [2] ’’اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے توآپ نے ایک آدمی کو یہ گواہی دیتے ہوئے سنا: ’’اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور [1] صحیح البخاری: ۱۶، ۲۱، ۶۰۴۱، ۶۹۴۱۔ صحیح مسلم: ۱۶۳. [2] سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۱۳۰.