کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 304
2. توحید امن وہدایت کی نوید ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ اَلَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ ﴾ [الأنعام:۸۲] ’’وہ لوگ جوایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ شرک کی آمیزش نہیں کی، ان ہی لوگوں کے لیے امن ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ 3.توحید گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَامِنْ نَفْسٍ تَمُوْتُ وَہِیَ تَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَرْجِعُ ذٰلِکَ إِلٰی قَلْبٍ مُوْقِنٍ إِلَّا غَفَرَاللّٰہُ لَہَا)) [1] ’’جو بھی جان یقین قلب کے ساتھ گواہی دیتی ہوئی فوت ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے گا۔‘‘ اورسیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَا ابْنَ آدَمَ إِنَّکَ لَوْ أَتَیْتَنِیْ بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَایَا ثُمَّ لَقِیْتَنِیْ لَا تُشْرِکُ بِیْ شَیْئًا لَأَتَیْتُکَ بِقُرَابِہَا مَغْفِرَۃً)) [2] ’’اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر کر بھی خطائیں لے آئے، لیکن مجھے اس حالت میں ملے کہ تو نے میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو میں بھی زمین بھر مغفرت سے تجھے نواز دوں گا۔‘‘ [1] سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲۲۷۸. [2] سنن الترمذی: ۳۵۴۰۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۲۸،۱۲۷.