کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 303
توحید کے فوائد وثمرات توحید کے بہت سارے فوائد وثمرات ہیں، ان سب کو احاطۂ تحریر میں لانا ممکن نہیں، البتہ ہم یہاں صرف دس کا تذکرہ کریں گے۔ 1.توحید اعمال کی قبولیت کاذریعہ ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا أَغْنَی الشُّرَکَائِ عَنِ الشِّرْکِ، فَمَنْ عَمِلَ لِی عَمَلًا أَشْرَکَ فِیہِ غَیْرِی فَأَنَا مِنْہُ بَرِیئٌ، وَہُوَ لِلَّذِی أَشْرَکَ)) [1] ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں دیگرشریکوں کی نسبت شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں، سو جس نے میرے لیے کوئی عمل کیا اور اس میں میرے علاوہ کسی اور کو بھی شریک ٹھہرایا تو میں اس سے بری ہوں، اور وہ (عمل) اسی کے لیے ہو گا جسے اس نے (میرا) شریک ٹھہرایا ہو گا۔‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَیْسَ لِلْقُلُوْبُ سُرُوْرٌ وَلَا لَذَّۃٌ تَامَّۃٌ إِلَّا فِیْ مَحَبَّۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالتَّقَرُّبِ إِلَیْہِ بِمَا یُحِبُّہٗ وَلَا تُمْکِنُ مَحَبَّتُہُ اللّٰہِ إِلاَّ بِالْإِعْرَاضِ عَنْ کُلِّ مَحْبُوْبٍ سِوَاہُ وَہٰذَا حَقِیْقَۃُ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔[2] ’’دِلوں کو سرور اور کامل لذت صرف محبت ِ الٰہی اور تقربِ الٰہی کے ہی ذریعے ملتی ہے اور یہ ان امور کو اختیار کرنے سے حاصل ہوتی ہے جو اللہ کو پسند ہیں، اور اللہ کی محبت اسی صورت میں مکمل ہوتی ہے کہ اس کے سوا ہر محبوب شے سے منہ موڑ لیا جائے، یہی لااِلٰہ اِلااللہ کی حقیقت ہے۔‘‘ [1] صحیح مسلم: ۲۹۸۵. [2] مجموع الفتاوی: ۲۸/۳۲.