کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 300
لِسَانَہٗ، وَلِسَانُہٗ قَلْبَہٗ))[1] ’’میری شفاعت اس کو حاصل ہو گی جس نے ایسے خلوص کے ساتھ لا اِلٰہ اِلا اللہ پڑھا ہو گا کہ اس کا دِل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی زبان اس کے دِل کی تصدیق کرتا ہو۔‘‘ روزِ قیامت ہم گناہ گاروں کی نجات کے لیے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہو سکے گی؟! یقینا اس سعادت کے لیے ہر ہر شخص شدید خواہشمند بھی ہو گا اور بہت بیتاب بھی۔ اور اس کے حصول کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طریقہ بھی بتلا دیا ہے، دیکھئے کس قدر آسان اور مختصر سا طریقہ ہے۔ فرمایا کہ خلوصِ دِل کے ساتھ ’’لا اِلٰہ اِلا اللہ‘‘ پڑھ لو؛ تمہیں میری شفاعت نصیب ہو جائے گی۔ خلوصِ دِل کے ساتھ پڑھنے سے مراد یہ ہے کہ اقرارِتوحید میں کسی قسم کا شک و شبہ اور اضطراب نہ ہو اور پھر صرف خالی اقرار پر ہی اکتفا نہ کر لیا جائے بلکہ اس کلمے کے تقاضے بھی پورے کیے جائیں اور اس کے مطابق اعمال کو بجا لایا جائے۔ 15… جہنم کی آگ سے نجات سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰہِ، حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ النَّارَ)) [2] ’’جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلاشبہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس پر (جہنم کی) آگ کو حرام فرما دیا۔‘‘ 16… جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] مسند أحمد: ۸۰۷۰. [2] صحیح مسلم: ۲۹.