کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 296
قَالَ: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّی مَالَہٗ وَنَفْسَہٗ إِلَّا بِحَقِّہٖ، وَحِسَابُہٗ عَلَی اللّٰہِ)) [1] ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں، یہاں تک کہ وہ ’’لااِلٰہ اِلا اللہ‘‘ کا اقرار کر لیں، سو جس نے ’’لا اِلٰہ اِلا اللہ‘‘ کا اقرار کر لیا؛ اس نے میری طرف سے اپنا مال اور اپنی جان کو محفوظ کر لیا، سوائے اس کے کہ اسلام کا کوئی حق ہو، اور (دِلی معاملات میں) اس کا حساب اللہ پر ہو گا۔‘‘ کسی شخص کے قبولِ اسلام کا ثبوت لااِلٰہ اِلااللہ کا اقرار ہے۔ اس اقرار کرنے والے پر مسلمانوں کے احکام جاری ہو جاتے ہیں اور اس کی جان اور مال محفوظ ہو جاتا ہے، یعنی اس سے جنگ کر کے اس کو قتل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کے مال کو غنیمت کے طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے، بلکہ اسلام اس کے جان و مال کا محافظ بن جاتا ہے۔ اس جملے: ’’سوائے اس کے کہ اسلام کا کوئی حق ہو‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اگر قبولِ اسلام کے بعد اس شخص سے کوئی ایسا جرم سرزد ہو جائے کہ جو قابلِ حد ہو، تو اس صورت میں اسلام اس کی جان اور مال میں تصرف کرنے کا حق رکھتا ہے، مثلاً اگر اس نے کسی کو قتل کر دیا ہے تو اسلامی قانون کے مطابق قصاص میں اس کو قتل کیا جائے گا اور اگر اس نے کسی کا مال چوری کر لیا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ مال میں تصرف کی صورت زکاۃ کی وصولی یا کسی دِیت کی ادائیگی وغیرہ ہے۔ 7… شیطان سے نجات کا وظیفہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کَانَتْ لَہٗ حِرْزًا مِنَ الشَّیْطَانِ یَوْمَہٗ ذَالِکَ حَتّٰی یُمْسِیَ)) [2] ’’یہ کلمہ اس شخص کے لیے اس دن شام تک شیطان سے حفاظت کا ذریعہ بن [1] صحیح مسلم: ۲۰. [2] صحیح البخاری: ۳۲۹۳۔صحیح مسلم: ۲۶۹۱.