کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 292
لااِلٰہ اِلا اللہ کے فضائل آسمان و زمین کے چلتے ہوئے اتنے بڑے نظام کو دیکھ کر عقل یہ سوال کرتی ہے کہ سورج کو طلوع و غروب کرنے والی، چاند کو چمکانے والی، بغیر کسی ستون کے آسمانی چھت کو کھڑا کرنے والی، پھر اس کو ستاروں سے سجانے والی، ہواؤں کو چلانے والی، بادلوں کو برسانے والی۔ پرندوں کو چہکانے والی، پھولوں کو مہکانے والی، آگ کو دہکانے والی، زمین سے رنگا رنگ فصلیں، پودے اور درخت اُگانے والی ذات آخر کون سی ہے؟ جس کا ایک ہی جواب آتا ہے کہ یہ سب کرنے والی صرف ایک وہی ذات ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ یکتاولاشریک ہے۔ رب تعالیٰ کی ذات و صفات اور اس کی وحدانیت کا اقرار درحقیقت ’’لااِلٰہ اِلا اللہ‘‘ کا تقاضا اور اس کی عملی تصویر ہے۔ زبان سے اقرارِتوحید کرنے کے ساتھ قلب و عمل سے اس کو ماننا اور اس کے تمام تر تقاضوں کو نبھانا ہی اصل مقصود ہے۔ اور جب زبان و دِل دونوں ہی اس کلمے کو ماننے والے بن جائیں تو پھر یہ چند لفظی کلمے کو فقط پڑھنے سے ہی بندے کے نامہ اعمال میں بے حساب اجروثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ ذیل میں ہم اس کلمے کے فضائل کو بیان کرتے ہیں۔ 1… ایمان کی سب سے افضل شاخ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْإِیمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ: أَفْضَلُہَا قَوْلُ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ)) [1] ’’ایمان کی ستر (70) سے کچھ زائد شاخیں ہیں، ان میں سے افضل شاخ ’’لااِلٰہ اِلا اللہ‘‘ کہنا ہے۔‘‘ اسلاف کرام رحمہم اللہ کے نزدیک ایمان سے مراد یہ ہے کہ زبان سے اقرار ہو، دِل سے [1] سنن أبی داود: ۴۶۷۶۔ صحیح الجامع: ۲۸۰۰.