کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 283
اسی طرح فرمایا: ﴿ وَإِذَا غَشِيَهُمْ مَوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُورٍ ﴾ [لقمان: ۳۲] ’’اور جب کوئی موج انہیں سائبانوں کی طرح ڈھانپ لیتی ہے تو اللہ کو پکارتے ہیں،اس حال میں کہ دین کو اس کے لیے خالص کرنے والے ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ہی سیدھی راہ پر قائم رہنے والے ہیں اور ہماری آیات کا انکار ہر ایسا شخص ہی کرتا ہے جو نہایت عہد توڑنے والا، بے حد نا شکرا ہو۔‘‘ سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں(عکرمہ بن ابی جہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح) اور دو عورتوں کے علاوہ ہر ایک کو امن دے دیا۔ عکرمہ بن ابی جہل کشتی پر سوارہوا تو طوفان نے اسے آ گھیرا، کشتی والے کہنے لگے: خلوصِ دل کے ساتھ اللہ سے دعا مانگو، یقینا یہاں تمہارے معبودتمہارے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ جب عکرمہ نے یہ سنا تو کہنے لگا: اللہ کی قسم! اگر سمندر میں صرف اللہ ہی بچا سکتاہے تو خشکی میں بھی وہی پجا سکتا ہے۔ اے اللہ! میرا تجھ سے وعدہ رہا اگر تو نے مجھے اس طوفان سے بچا دیا تو میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دوں گااور اس کو معاف کرنے والا اور کریم پاؤں گا۔ چنانچہ وہ آیا اور مسلمان ہو گیا۔‘‘[1] ہدایت دینے والا صرف اللہ ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴾ [إبراہیم: ۴] [1] سنن النسائی: ۴۰۶۷۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۷۲۳.