کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 280
ہر چیز پر قادر صرف اللہ تعالیٰ ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَاللّٰهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴾ [آل عمران: ۲۹] ’’اور اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ الَّذِیْ أَمْشَاہُمْ عَلٰی أَرْجُلِہِمْ فِی الدُّنْیَا، قَادِرٌ عَلٰی أَنْ یُمْشِیَہُمْ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) [1] ’’وہ ذات جو دنیا میں لوگوں کو ان کے قدموں پر چلاتی ہے، وہ اس بات پر قادر ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے چہروں پر چلائے۔‘‘ ہر ایک کی فریاد سننے والا (غوثِ اعظم) صرف اللہ ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللّٰهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ ﴾ [النمل: ۶۲] ’’کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جب کہ وہ اسے پکارے اور کون اس کی تکلیف کو رفع کرتاہے ؟ اور (کون ہے جو) تمہیں زمین کاخلیفہ بناتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور اللہ بھی (یہ کام کرنے والا) ہے ؟ تم لوگ کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو۔‘‘ ہر ایک کو اولاد دینے والا (داتا) صرف اللہ ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ للّٰهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا [1] صحیح الجامع: ۶۸۷.