کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 273
وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴾[الزمر : ۷۶] ’’اور ان لوگوں نے جیسی اللہ کی قدر کرنی چاہیے تھی نہیں کی، ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور سارے آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بناتے ہیں۔‘‘ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِیْعِ الْأَرْضِ، فَجَائَ بَنُوْ آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ، جَائَ مِنْہُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ وَالْأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذَالِکَ، وَالسَّہْلُ وَالْحُزْنُ وَالْخَبِیْثُ وَالطِّیْبُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ)) [1] ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم کو ایک مٹھی سے پیدا کیا جس میں پوری زمین سے مٹی لی، چنانچہ آدم کی اولاد مٹی کے اوصاف کی طرح ہی پیدا ہو ئی۔ کسی کا سرخ رنگ، کسی کا سفید اور کسی کا سیاہ اور کچھ ملے ہوئے رنگ کے پیدا ہوئے، ان میں سے کچھ ہشاش بشاش، کچھ غمگین اور کچھ خبیث اور کچھ پاک صفت اور کچھ ملی ہوئی صفات والے پیدا ہوئے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی شایان شان انگلیاں مبارک ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ قُلُوْبَ بَنِیْ آدَمَ کُلَّہَا بَیْنَ أُصْبُعَیْنِ مِنْ أَصَابِع الرَّحْمٰن کَقَلْبٍ وَاحِدٍ یُصَرِفُہٗ حَیْثَ شَائَ)) [2] ’’بلاشبہ آدم کی تمام اولاد کے دل ایک دل کی طرح اللہ جل شانہ کی دو انگلیوں [1] صحیح الجامع: ۱۷۵۹۔سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۶۳۰. [2] صحیح الجامع: ۲۱۴۱۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۱۶۸۹.