کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 271
اللہ تعالیٰ کی شایان شان آنکھیں مبارک ہیں: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا ﴾ [ہود: ۳۷] ’’اور ہماری آنکھوں کے سامنے کشتی بنائیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي﴾ [طہ: ۳۹] ’’اور (اے موسیٰ) میں نے آپ پر اپنی خاص محبت اور مقبولیت ڈال دی ہے تاکہ تیری پرورش میری آنکھو ں کے سامنے کی جائے۔‘‘ اورسیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ نَبِیٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَہُ اْلأَعْوَرَ الْکَذَّابَ، أَلاَ إِنَّہٗ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّکُمْ عَزَّوَجَلَّ لَیْسَ بِأَعْوَرَ، مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیہِ کَافِرٌ)) [1] ’’ہر نبی نے اپنی امت کو جھوٹے اوراعور دجال سے ڈرایا ہے، خبردار! بے شک دجال اعور (آنکھ سے کانا) ہے اور تمہارا رب اعور نہیں ہے اوردجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھاہواہوگا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے شایان شان ہاتھ مبارک ہیں: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ ﴾ [ص: ۷۵] [1] صحیح البخاری: ۷۴۰۸۔صحیح مسلم: ۱۰۱۔ سنن أبی داود: ۴۳۱۶۔ سنن الترمذی: ۲۲۴۵.