کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 269
وَتَصْدِیْقًا لَہٗ۔ ’’ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، اور زمینوں کو ایک انگلی پر،پہاڑوں کو بھی ایک انگلی پر، درختوں کو بھی ایک انگلی پر، مخلوقات کو بھی ایک انگلی پر روک لے گااور پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (یہ سن کر) مسکرا پڑے، یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿ وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ ﴾ [الزمر: ۶۷] ’’اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کا حق تھا۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی کی باتوں پر تعجب اور تصدیق کرتے ہوئے ہنسے۔[1] صفات الٰہیہ اب ہم اللہ تعالیٰ کی چند صفات کا تذکر ہ کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی شایانِ شان صورت مبارک ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہٖ طُوْلُہٗ سِتُّوْنَ ذِرَاعًا)) [2] ’’سیدنا آدم علیہ السلام کواللہ تعالیٰ نے اپنی صورت پر پیدا کیا اور ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا شایان شان چہرہ مبارک ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: [1] صحیح البخاری: ۷۴۱۴، ۷۴۱۵، ۷۴۵۱، ۷۵۱۳. [2] صحیح البخاری: ۳۳۲۶۔ صحیح مسلم: ۲۸.