کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 263
((حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ سِتٌّ)) ’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پرچھے حقوق ہیں۔‘‘ پوچھاگیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سے حقوق ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا لَقِیتَہٗ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ، وَإِذَا دَعَاکَ فَأَجِبْہُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَکَ فَانْصَحْ لَہٗ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللّٰہَ فَشَمِّتْہُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْہُ، وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْہُ)) [1] ’’جب تواسے ملے تواسے سلام کہہ، جب وہ تیری دعوت کرے توقبول کر، جب وہ تجھ سے خیرخواہی کا طلبگار ہو تو اس سے خیرخواہی کر، جب وہ چھینک مارے (اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے) تو (یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہہ کر) اس کا جواب دے، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی تیمارداری کر اور جب وہ فوت ہوجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو۔‘‘ خیر خواہی کے طلب گار سے خیر خواہی کرنے کا مطلب ہے کہ جب اسے کسی معاملے میں مشورہ درکار ہو تو اسے اچھا اور مفید مشورہ دینا، یا اسے کسی مشکل وقت میں اس کی ضرورت ہو تو اس کے کام آنا، یا اس میں کوئی تعبدی امور کی کوتاہی یا اخلاقی برائی پائی جاتی ہو تو اس کی اصلاح کے لیے اسے سمجھانا اور نصیحت کرنا، غرضیکہ وہ تمام امور خیرخواہی میں شامل ہیں جن سے دوسرے مسلمان کا بھلا ہوتا ہے۔ اس بحث کے بعد اب ہم ارکانِ اسلام کا بیان پڑھیں گے۔ سب سے پہلا رُکن توحید ہے، تو آئیے ہم توحید کے بارے میں جانتے ہیں۔ [1] صحیح مسلم: ۲۱۶۲.