کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 262
مَمْشَاکَ، وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّۃِ مَنْزِلًا)) [1] ’’جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے، آسمان سے ایک فرشتہ آواز لگاتا ہے: تو بھی پاک اور اچھا ہے اور تیرا چلنا بھی پاک اور اچھا ہے، اور تو نے جنت میں گھر بنا لیا ہے۔‘‘ اگر کوئی شخص بیمار ہو تو اس کا مسلمان بھائی جب فقط دِینی ناتے اور ایمانی تعلق کی بناء پر اس کی خیریت دریافت کرنے اور تیمارداری کرنے کے لیے اس کے پاس جاتا ہے تو نہ صرف مریض کو بہت حوصلہ ملتا ہے اور اس کی ڈھارس بندھتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ بھی بڑا خوش ہوتا ہے اور عیادت کے لیے آنے والے کے عمل سے راضی ہو کر جنت میں اس کا گھر تیار فرما دیتا ہے۔ (۱۱) ایک دوسرے کو تحائف دیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((تَہَادَوْا، فَإِنَّ الْہَدِیَّۃَ تُذْہِبُ وَغَرَ الصَّدْرِ)) [2] ’’آپس میں تحائف کا تبادلہ کیا کرو، کیونکہ یہ سینے کے بغض و کینہ کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘ اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَقْبَلُ الْہَدِیَّۃَ وَیُثِیبُ عَلَیْہَا۔[3] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تحفہ قبول فرمایا کرتے تھے اور اس کا بدلہ بھی دیتے تھے۔‘‘ (۱۲) مسلمان بھائی کے چھے بنیادی حقوق ادا کریں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] سنن الترمذی: ۲۰۰۸۔سنن ابن ماجہ: ۱۴۴۳. [2] مسند أحمد: ۹۲۵۰. [3] صحیح البخاری: ۲۵۸۵.