کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 261
عَنْہُ کُرْبَۃً، أَوْ تَقْضِی عَنْہُ دَیْنًا، أَوْ تَطْرُدُ عَنْہُ جُوعًا، وَلَأَنْ أَمْشِیَ مَعَ أَخِی فِی حَاجَۃٍ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَعْتَکِفَ فِی ہٰذَا الْمَسْجِدِ - یَعْنِی مَسْجِدَ الْمَدِینَۃِ - شَھْرًا، وَمَنْ کَفَّ غَضَبَہٗ سَتَرَ اللّٰہُ عَورَتَہٗ، وَمَنْ کَظَمَ غَیْظَہٗ، وَلَوْ شَائَ أَنْ یُمْضِیَہٗ أَمْضَاہُ مَلَأَ اللّٰهُ قَلْبَہٗ رَجَائً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ مَشٰی مَعَ أَخِیہِ فِی حَاجَۃٍ حَتّٰی یَتَہَیَّأَ لَہٗ أَثْبَتَ اللّٰہُ قَدَمَہٗ یَوْمَ تَزُولُ الْأَقْدَامُ)) [1] ’’اللہ تعالیٰ کی نظر میں لوگوں میں سے محبوب ترین شخص وہ ہے جو لوگوں کو ان سب سے زیادہ نفع پہنچانے والا ہو اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں محبوب ترین اعمال (یہ ہیں:) وہ خوشی جو تم کسی مسلمان کو دو، یا اس کی کوئی پریشانی اور تکلیف دُور کر دو، یا اس کا قرض ادا کر دو، یا اس کی بھوک مٹا دو۔ میں اپنے کسی (مسلمان) بھائی کے ساتھ جا کر اس کا کام کر دُوں؛ یہ عمل مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اس مسجد (یعنی مسجدنبوی) میں ایک مہینے کا اعتکاف کروں، جس نے اپنا غصہ روک لیا؛ اللہ تعالیٰ اس کے عیوب کی پردہ پوشی فرمائے گا اور جو اپنا غصہ پی گیا؛ حالانکہ اگر وہ غصہ نکالنا چاہتا تو نکال سکتا تھا، اللہ تعالیٰ اس کے دِل کو روزِ قیامت (نجات اور مغفرت کی) اُمید سے بھر دے گا، جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ اس کا کام کر دے، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس دِن ثابت قدم رکھے گا جس دِن (لوگوں کے) قدم ڈگمگا رہے ہوں گے۔‘‘ (۱۰) مسلمان بھائی بیمار ہو تو عیادت کریں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ عَادَ مَرِیضًا، نَادٰی مُنَادٍ مِنَ السَّمَائِ: طِبْتَ وَطَابَ [1] المعجم الکبیر للطبرانی: ۱۳۶۴۶.