کتاب: دعوت دین کے بنیادی اصول - صفحہ 259
ہے، کسی بھولے ہوئے علاقے میں آدمی کو راستہ بتا دینا بھی تمہارے لیے صدقہ ہے، کسی نابینا شخص کے لیے تیرا دیکھنا (یعنی اس کو وہ چیز دیکھ کر بتلا دینا جس کی اسے ضرورت ہو) تمہارے لیے صدقہ ہے، راستے سے پتھر، کانٹے دار ٹہنی اور ہڈی اُٹھا دینا تمہارے لیے صدقہ ہے اور تمہارا اپنے ڈول سے (کوئی چیز) اپنے بھائی کے ڈول میں ڈال دینا (یعنی ضرورت کی کوئی بھی چیز اپنے بھائی کو دینا) بھی تمہارے لیے صدقہ ہے۔‘‘ (۶) مسلمان بھائی کی ہر حال میں مدد کریں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أُنْصُرْ أَخَاکَ ظَالِمًا أَو مَظْلُومًا، إِنْ یَکُ ظَالِمًا فَارْدُدْہُ عَنْ ظُلْمِہٖ، وَإِنْ یَکُ مَظْلُومًا فَانْصُرْہُ)) [1] ’’اپنے بھائی کی مدد کر، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، اگر وہ ظالم ہو تو اس کو ظلم کرنے سے روک اور اگر وہ مظلوم ہو تو اس کی مدد کر۔‘‘ (۷) اس کے حق میں دعاگو رہیں سیدہ اُم الدرداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((دَعْوَۃُ الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ لِأَخِیہِ بِظَہْرِ الْغَیْبِ مُسْتَجَابَۃٌ، عِنْدَ رَأْسِہٖ مَلَکٌ مُوَکَّلٌ، کُلَّمَا دَعَا لِأَخِیہِ بِخَیْرٍ، قَالَ الْمَلَکُ الْمُوَکَّلُ بِہٖ: آمِینَ وَلَکَ بِمِثْلٍ)) [2] ’’آدمی کی اپنے مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے لیے کی گئی دعا قبول کی جاتی ہے اور اس کے (یعنی دعا کرنے والے کے) سر کے پاس ایک فرشتہ [1] صحیح الجامع: ۱۵۰۱۔سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۲۴۴۹. [2] صحیح مسلم: ۲۷۳۳.